نئی دہلی،02/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ کے 9 ججوں کی بنچ پیر کو مذہب کی بنیاد پرخواتین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک سے متعلق معاملہ طے کرے گی۔کورٹ نے شروع میں ہی وکلاء سے اس بات پر اپنا دکھ ظاہر کیا کہ ان میں ان قانونی مسائل پر کوئی رائے نہیں بن پائی کہ نو ججوں کی بنچ کس پر فیصلہ کرے گی۔آئین بنچ مساجد میں خواتین کا داخلہ، بوہرہ مسلم کمیونٹی میں خواتین کے ختنہ اور غیر پارسی مردوں سے شادی کرنے والی پارسی خواتین کے مقدس مقامات میں جانے پر پابندی سے متعلق مسائل پر غور کرے گی۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین ججوں کی بنچ نے یہ بھی کہا کہ نو ججوں کی بنچ جرح کرنے والے کچھ وکلاء کی طرف سے مقرر کئے گئے مسائل پر بھی غور کرے گی اور کچھ عام قانونی سوالات کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے گی جن پراسے فیصلہ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنچ سماعت کا پروگرام بھی طے کرے گی۔اس بنچ میں جسٹس بی آر گوی اور سوریہ کانت بھی شامل ہیں۔بنچ نے کہاکہ ہم تھوڑے مایوس ہیں کیونکہ آپ کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچ سکے۔اب نو ججوں کی بنچ وکلاء میں سے کچھ وکیل کی طرف سے دیئے گئے سوالوں کو دیکھے گی اور تین فروری کو اس معاملے کو واضح کرنے کی کوشش کرے گی اور سماعت کے پروگرام اور طریقے پر فیصلہ لے گی۔عدالت نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب سینئر ایڈووکیٹ وی گری نے بنچ کے سامنے کہا کہ معاملے سے متعلق کچھ سینئر وکیلوں نے کچھ قانونی پہلو طے کئے ہیں اور عدالت کو ان پر نظر ڈالنی چاہئے۔ عدالت نے 13 جنوری کو چار سینئر وکلاء سے کہا تھا کہ وہ اجلاس کرکے ان مسائل کوطے کریں جن پر اس معاملے میں بحث ہونی ہے۔سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی طے کرنا چاہئے کہ سماعت کاعمل کس طرح چلے گا کیونکہ آئینی بنچ کو بہت سے معاملات کو دیکھنا ہوگا۔بنچ نے کہا کہ وہ ایک ہی مسئلے پر دو وکلاء کو جرح کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ بنچ نے کہاکہ ہمارا مقصد بڑے مسائل کو سلجھانا ہے اور پھر ذاتی معاملات کو دیکھا جا سکتا ہے۔عدالت عظمی نے 28 جنوری کو کہا تھا کہ نو ججوں والی آئینی بنچ 10 دن کے اندر معاملے کی سماعت مکمل کرے گی۔